Latest Posts

6/recent/ticker-posts

یاعلی مدد۔علی سے مدد مانگنا

 یاعلی مدد۔علی سے مدد مانگنا

مدد کا مطلب
دلیل ا: مخلوق کو حقیقی مدد خدا کی طرف سے حاصل ہوتی ہے,مگر یہ رسول ص اور امام کی توسط سے ممکن ہے۔بعد ازان ظاہری,مجازی اور جسمانی مدد ہے جو لوگوں کی طرف سے خدا ,پیغمبر اور امام کو ہونی چاہیے۔جس کے معنہ یہ ہوئے کہ مدد کی مراد مقام اور درجہ کے مطابق پے,یعنی کہ خدا کی مدد,پیغمبر ص اور امام ع کی مدد اور لوگوں کی مدد ایک جیسی نہیں ہوسکتی,چنانچہ یاعلی مدد کا مطلب ہے,کہ اے علی صراط مستقیم پر ہماری رہنمائی اور دستگیری کیجیے,کیوں کہ یہاں مدد سے مراد ظاہری و باطنی ہدایت کے سوا کچھ نہیں,پھر بھی اگر پوچھا جائے کہ ہم یا اللہ مدد کیوں نہ کہیں,کہ یا رسول ص ندد کہیں اور یاعلی ع مدد کہیں۔اسکا تفصیلی جواب ذیل کی طرح ہے۔
1-جن کا یہ عقیدہ ہے بلکہ ایمان ہے کہ پیغمبر ص و امام علیہ السلام اللہ تعالی کےذندہ و گوئندہ اسم اعظم ہے(7/180) تو ان کے نزدیک یہ بات حق اور حقیقت ہے کہ وہ اللہ تعالی کو ایسے نام سے پکاریں۔جو سب سے بزرگ اوراور خداوند تعالی کو بہت ہی عزیز اور پیارا ہے۔
2-دانشمندوں کے نزدیک یہ بات بہت اہمیت والی ہے کہ حق تعالی نے کبھی اپنے کسی ظاہری و حرفہ نام کو اپنا خلیفہ نہیں بنایا,اسم کو پیغمبر اور امام نہیں ٹھرایا,اسے آسمانی کتاب کا معلم نہیں کہا,نہیں فرمایا کہ نور ہدایت کا سرچشمہ یہی لفظی اسم ہے ,اور نہ یہ ارشاد ہوا کہ ظاہری اسم خدا کی رسی ہے,پس معلوم ہوا کہ خدا کا حقیقی نام پیغمبر ہے اور امام زمان علیہ السلام,لہذا انہی کے وسیلے
سے خدا تعالی کیطرف رجوع کرنا درست ہے۔
😚 کیوں نہیں,خداوند تعالی کے ظاہری اور حرفی اسماء میں بھی مومنین کے لیے نور ضرور ہے,مگر اس وقت جب نبی ص و امام ع کسی سے راضی ہوجایےورنہ مشکل بلکہ ناممکن ہے,مثال کے طور پر کسی غیر مسلم کو خداعند تعالی کا کوئی ظاہری اسم بتادیجئے اور قرآن سے دریافت کیجیے کہ آیا محمد رسول اللہ ص کی نبوت ورسالت کےاقرار کے بغیر ایسے شخص کو اسم خداوندی سے کوئی نورمل سکتا?مجھے یقین ہے کہ قرآن سے اسکا جواب نفی میں ملے گا۔
4-جو کامل انسان ایسا ہو کہ وہ روئے زمین پر خلیفئہ خدا ہے ,اس کی کی جانب سے نور ہدایت اور خزانئہ علم و حکمت ہے,خدا اور اس کی مخلوق کے درمیان وسیلہ اور واسطہ ہے,اور لوگوں کا رہنما اور دستگیرہے,تو یہ لازمی بات ہے کہ لوگ ہر وقت اس کی طرف رجوع کریں,اور اسے مدد کے لئے پکارا کریں,کیوں کہ اسے خدا ہی نے اسی مقصد کے لئے مقرر فرمایا ہے۔
5-قرآن مجید کی عظمت و بزرگی اور تقدس و فضیلت میں کسی مسلمان کو کیا شک ہوسکتا ہے,چنانچہ کتاب الہی کی جتنی تعظیم و حرمت کی جائے اور جیسا رجوع کیا جائے ,وہ سب صحیح اور جائز ہے,یہی مثال امام کی بھی ہےاور اس میں ذرہ بھر شرک نہیں ,کیونکہ خدا تعالی کی کی چیز کی طرف رجوع درحقیقت خدا سے رجوع ہے,تو اس میں شرک کیسے ہوسکتا ہے۔
6-اللہ تعالی کی شناخت کے تصورات میں سے ایک تصور ایسا بھی ہے,جیسے حق سبحانہ و تعالی عرش عظیم پر قائم ہو اور جیسے اس کے عرش یعنی تخت کو چند بڑے فرشتے اٹھا رہے ہوں,اگر یہ بات مثال نہ ہو ,حقیقت ہو,تو پھر بھی اس کے معنی یہ ہونگے وہ انتہائ قوت والے فرشتے جو عرش عظیم اٹھائے ہوئے ہیں,خدا کے شریک ہر گز نہیں بلکہ خدا کے بندے ہیں,ہر چند کہ عرش الہی انھی پر قائم ہے۔
7-اللہ تعالی کے قلم اور لوح کا تصور ہے,جو خداوند تعالی کا سارا کا اسی قلم اور لوح نے انجام دیا,مگر چونکہ یہ سب کچھ خدا کے حکم کے مطابق ہوا ہے ,اس لئے لوح و قلم خدا کے شریک نہیں کیونکہ خدا کی اپنی چیز شریک نہیں کہلاتی۔
8_حق تعالی کے جبرائیل ع ,میکائیل ع ,اسرافیل ع اور عزرائیل ع ہے جو روحانیت کے بہت سے امور انجام دیتے ہیں,اور ان کے علاوہ اور بھی لاتعداد فرشتے ہیں ,جو مختلف کاموں پر مامور ہیں۔وہ اللہ تعالی کے حکم سے کام کرتے ہیں۔اس لئے روح,روحانیت اور غیب کے کاموں کے کرنے سے وہ شریک خدا نہیں کہلاتے ہیں۔
9-ایک مثال عالم ظاہر کی بھی لیجیے کہ سورج اس کائنات میں کتنا عظیمکام کرتا ہے اس عالمظاہر کا سارا نظام سورج ہی پر قائم ہے,اسی طرح اگر عالم دین میں بھی اپنی نوعیت کا ایک سورج ہو تو ظاہر ہے کہ وہ اس دنیاوی سورج سے بھی بہت زیادہ عجیب ہوگا اور بہت ہی عجیب,لیکن کیا کوئج دانشمند کہہ سکتا کہ وہ دینی سورج خود خدا ہے یا خدا کا شریک ہے?اگر دنیوی سورج اپنی بے پناہ روشنی اور مادی قوتوں کا سرچشمہ ہونے کے باوجود خدا کا شریک نہیں ہوسکتا ہے,تو جاننا چاہیے کہ عالم دین کا سورج بھی خدا کا شریک نہیں کہلاسکتا ہے,مگر اللہ تعالی کی قدرت کا مظہر ہوسکتا ہے,پس جاننا چاہیے کہ رسول ص اور امام ع عالم دین کے سورج یعنی نور ہیں اور ان سے ہدایتکی روشنی حاصل کرنے کے لئے رجوع اور درخواست اعانت جائز اور درست ہے اور اس میں کوئی شرک نہیں۔
عالم دین کے سورج میں پاک روح اور عقل کامل ہے ,اسے علم و حکمت اور رشدو ہدایت کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے,ساتھ ہی ساتھ پروردگار عالم نے اس کو قدرت دی ہے اور اسے اختیار حاصل ہے,پس اگر ہم کہیں کہ اے آفتاب دین ! آپ ہمیں دین کی روشنی پہنچائیے ,تو کیا یہ شرک ہوسکتا ہے?وہ کیسے?اور کس طرح?
کتاب: یاعلی مدد
یکے از تصنیفات: علامہ ڈاکٹر نصیرالدین نصیر ہنزائی

Post a Comment

0 Comments