حضرت امام آقا سلطان محمد شاہ علیہ السلام
امامت :- 1885ء - 1957ء
ولادت و امامت
حضرت امام آقا سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ کی ولادت با سعادت 2 نومبر 1877ء بروز جمعہ کراچی میں محمد ٹیکری کے مقام پر ہوئی.
آپ اڑتالیسویں پست میں حضرت علی علیہ السلام کی اولاد (بنی فاطمہ) ہیں اور یہ سلسلہ حضرت محمد صلعم سے ملتا ہے. آپ اپنے والد صاحب کی رحلت کے بعد سات سال نو مہینے اور 16 دن کی عمر میں بمبئ میں 17 اگست 1885ء میں فرقہ اسماعیلیہ کے اڑتالیسویں امام کی حیثیت سے مسند امامت پر رونق افروز ہوئے.
تعلیم
حضرت امام سلطان محمد شاہ کی والدہ ماجدہ نواب عالیہ شمس الملک ایک اعلیٰ مرتبت ایرانی شہزادی تھیں جو آپ کے ہر کام میں مدد کرتی تھیں. انہوں نے بچپن میں آپ کی تعلیم کا خاص انتظام کیا. آپ نے بہت ہی کم عرصے میں عربی, فارسی, انگریزی اور دوسری یورپی زبانوں میں مہارت حاصل کر لی. اور تاریخ اسلام, مذہب, سیاست اور فلسفے کا مطالعہ کرنے لگے. اور اپنے لئے ایک شاندار لائبریری بھی بنائی بچپن سے گھوڑسواڑی اور کھیلوں اور خاص طور پر جسمانی ورزش کی عادت ڈالی. اور دوسروں کو بھی ورزش کرنے میں دلچسپی لینے کی تلقین کرتے تھے. 18سال کی عمر میں آپ نے یورپ کا پہلا سفر کیا. اور انگلستان کی ملکہ وکٹوریہ سے ملاقات کی بعد میں یورپ, ایشیا اور افریقہ کے کئی سفر کئے. اور عموماً اسلامی ممالک کا سفر کرتے تھے. جہاں مسلمانوں کی پستی کے اسباب, تعلیم اور ان کے اقتصادی حالات کا جائزہ لیتے تھے.
خاندان
حضرت امام سلطان محمد شاہ کی پہلی شادی 1897ء میں بمبئ میں آپ کے چچا آغا جنگی شاہ کی دختر شہزادی بیگم سے ہوئی. جس سے کوئی اولاد پیدا نہ ہوئی. 1908ء میں آپ کی شادی پرنسیس تھریسے سے ہوئی جن کے بطن سے پہلا فرزند مہدی پیدا ہوا جو بچپن ہی میں فوت ہو گیا. اور دوسرے فرزند پرنس علی سلمان خان ہوئے. پرنس تھریسے کی وفات کے بعد آپ نے 1929ء میں پرنسیس کیرون کے ساتھ شادی کی جن کے بطن سے پرنس صدرالدین پیدا ہوئے. 1944ء میں اُمّ حبیبہ سے شادی ہوئی.
1946ء میں ڈائمنڈجوبلی کے موقع پر دارالسلام میں حضرت امام سلطان محمد شاہ نے انہیں ماتا سلامت کا خطاب عنایت فرمایا. آپ اسماعیلی قوم کی ترقی اور بہبودی میں دلچسپی رکھتی تھیں. پرنس علی سلمان خان کے دو بیٹے مولانا حاضر امام شاہ کریم الحسینی۴ اور پرنس امین محمد اور ایک بیٹی پرنسیس یاسمین ہیں.
لقب
دنیا کے بڑے بڑے حکمرانوں نے حضرت امام سلطان محمد شاہ کو القاب اور خطابات پیش کئے. ایران, ترکی, شام, پاکستان, انڈونیشیا, افریقہ, برطانیہ, جرمنی وغیرہ کے ممتاز القاب آپ کو دئیے گئے. اور آپ کو بین الاقوامی شہری مانا جاتا تھا.
سلطنت ایران سے ہزرائل ہائی نس کا موروثی لقب ملا اور دنیا کی بہت سی یونیورسٹیوں نے آپ کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں پیش کیں اور آپ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ کے پروچانسلر منتخب کئے گئے تھے.
وفات
حضرت امام سلطان محمد شاہ نے 11 جولائی 1957ء کو ولا برکت جینوا میں رحلت فرمائی اور آپ کا مقبرہ مصر کے شہر اسوان میں تعمیر کیا گیا. جہاں آپ کو دفن کیا گیا. آپ کے بعد آپ کے پوتے شاہ کریم الحسینی۴ مسند امامت پر جلوہ افروز ہوئے.
0 Comments