حضرت امام سلطان محمد شاہ کا مسلمانوں کی تعلیم ترقی کے لئے خدمات
حضرت امام سلطان محمد شاہ نے مسلمانوں کو تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت اور تعلیم کے فائدے سمجھانے کے لئے ہندستان کے مختلف علاقوں کے دورے شروع کئے- اور مختلف لوگوں سے مخاطب ہوئے- 1903ء میں مسلمانوں کا تعلیمی اجلاس بمبئی میں منعقد ہوا- اس جلاس کی استقبالیہ کمیٹی کے آپ صدر تھے-
پھر 1905ء اور1906ء میں آپ علیگڑھ تشریف لائے- اور سائنس کے شعبہ کا افتتاح کروادیا- اس موقع پر بھی علیگٰڑھ کالج کو یونیووسٹی میں تبدیل کرنے کے لئے فنڈ جمع کرنے پر زور دیا- چنانچہ روپے جمع کرنے کے لئے ایک اسکیم بنائی گئ اور ایک وفد مقرر کیا گیا جس کے صدر امام علیہ السلام تھے- جبکہ مولانا شوکت علی اس کے سیکریٹری تھے- یہ تعلیمی وفد جگہ جگہ دورہ کرکے مسلمانوں کی تعلیم کے لئے فنڈ جمع کرتا تھا-
یہ وفد پہلے پہل الہ آباد آیا اور بھوپال کی رانی کی خدمت میں حاضر ہوا- اس وقت آپ نے ایک نہایت اثرانگیز تقریر فرمائی چنانچہ بھوپال کی رانی سلطان جہاں بیگم بہت متاثر ہو یئں اور ایک لاکھ روپے عطیہ کا اعلان کیا- اس کے بعد وفد لکھنو گیا جہاں مولانا شبلی موجود تھے- وہاں پر وفد کا پرجوش استقبال کیا گیا اور مولانا شبلی نے ایک اخبار میں حضرت امام سلطان محمد شاہ کے لئے یہ الفاظ لکھےّ :-
"حکومت انگریزی کی ابتدائی تاریخ سے آج تک مسلمانوں نے کھی ایسی بلند ہمتی کا اظہا نہیں کیا؛ جو ایک یگانہ قوم ہزھائی نس سر آغاخان کی ذات میں وجود میں آئی-
محمڈن یونیورسٹی ایک خواب تھا جو گو نہایت خوشگونہایت خشگواراور شیرِیں تھا- لیکن پھر بھی خواب تھا- ہزہائی نس موصوف نے اس کی تعبیر بتائی اور بتائی نہِں کر کے دکھایا - چھ کروڑ مسلمان اس کام کو انجام نہیں دے سکتے تھے- جو ایک ذاتِ واحد نے انجام دیا-
24 فروری 1911ء کو یہ تعلیمی وفد لاہور گیا- جہاں بڑے جوش و خروش سے اس وفد کا استقبال کیا گیا- استقبال کے لئے لاہور ریلوے اسٹیشن پر ہزاروں مسلمان جمع ہوئے تھے- اور پھولوں کے ہار لئے ہوئے ریل گاڑی کا انتظار کررہے تھے اور اس معزز مہمان سر آغاخان کو گھوڑا گاڑی پر بٹھا کر شہر لے جانے کا انتظام کیا گیا تھا- لیکن گاڑی کے لئے گھوڑے موجود نہیں تھے- کیا جلدی میں وہ گھوڑے جوتنا بھول گئے تھے ؟ نہیں ! لیکن ایسے مہمان کے لئے مسلمانوں نے یہ طے کیا تھا کہ وہ اپنی بے پناہ محبت کا ثبوت دینے کے لئے اس گاڑی کو گھوڑوں کی بجائے خود کھینچیں گے- اس گاڑی کو کھینچنے والوں میں علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال اور ڈاکٹر ضیاءالدین بھی تھے- اس وقت مقامی اخباروں نے بھی بیانات شائع کئے اور لکھے کہ:-
"ہمارے رسول مقبول صلعم کی اولاد آج شہر لاہور میں رونق افروز ہے اور مسلم یونیورسٹی کے لئے چندہ جمع کرنے کے لئے ہاتھ میں کاسہ گدائی اٹھائے ہوئے ہیں تاکہ اس فنڈ سے رسول اکرم کی اُمت کے لوگ فائدے اٹھائیں"-
مولانا شبلی نے جو لاہور میں تشریف لائے ہوئے تھے آپ علیہ السلام کی خدمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے فارسی میں ایک شاندار قصیدہ پڑھا جس کے چند اشعار یہ ہیں-
سر آغاخان خود است ایں تعبیر نوشیں را
چہ خوش باشد کہ خواب از ما و تعبیر ازخدا باشد
بکیش شیعہُ سنیّ سر آغاخان خدا بنود
ولیکن کشتی اسلامیاں رانا خدا باشد
ترجمہ:- سر آغاخان جو خود ہی اس میٹھی تعبیر کے خواب ہیں- کتنا اچھا ہے کہ خواب ہمارا ہو اور اس کی تعبیر خدا کی طرف سے ہو- شیعہ اور سُنی مذہب کے نزدیک بے شک سر آغاخان خدا نہیں ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اہلِ اسلام کی کشتی کے نا خدا ضرور ہیں"-
آپ نے ایک پرزور تقریر لاہور میں کی جس کے بعد لاہور کے باشندوں نے چندہ کی فہرست تیار کی فہرست میں دل کھول کر چندہ لکھوایا-
اس کے بعد آپ بمبئ تشریف لے گئے- بمبئ میں چند مالدارمسلمان عقیدہ کے لحاظ سے اختلاف رکھتے تھے- تاہم آپ ان کے پاس تشریف لے گئے اور مسلمانوں کی تعلیم کے لئے چندہ مانگا-
چنانچہ ان لوگوں نے اختلاف بھلا کر چندہ دیا- آخر کار ان تمام کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1920ء میں علی گڑھ کالج کو یونیورسٹی بنایا گیا- اور اسی سال حضرت امام سلطان محمد شاہ کو یونیورسٹی کے چانسلر کے عہدے کے لئے منتخب کیا گیا- جس پر آپ کئ برسوں تک فائز رہے-
اس کے بعد آپ مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی میں حصہ لینے کی وجہ سے کافی مصروف رہتے تھے- تاہم تعلیم سے آپ کی دلچسپی بہت گہری تھی- اور آپ کی کوششوں سے یونیورسٹی میں کئ سائنسی شعبے قائم ہوئے- جس کے لئے ہر وقت چندہ بھی دیتے رہے- 1946ء میں ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر میڈیکل کالج کے لئے ایک لاکھ روپے کا عطیہ دیا اور فرمایا کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کی تعلیم کے لئے کراچی میں ایک ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی قائم کرنی چاہیئے تاکہ مسلمانوں کا مستقبل محفوظ رہے اور فرمایا کہ میں اس کے لئے دس لاکھ روپیہ چندہ دوں گا- اگر میں اب بھی جوان ہوتا تو اس یونیورسٹی کے لئے بھی چندہ جمع کرتا- خضرت امام سلطان محمد شاہ علیہ السلام کی تعلیم سخاوتیں صرف اپنے مسلمان بھائیوں تک ہی محدود نہیں تھیں بلکہ دیگرغیر مسلم اداروں کو بھی عطیئے دیتے تھے اور بیرونی ممالک میں بھی آپ کی تعلیمی سخاوتیں پھیلی ہوئی تھیں-
0 Comments